شادی میں احساسی قربت کی تربیت: اسلام میں محبت اور تعلق کو بڑھانا
شادی ایک ایسا رشتہ ہے جو دو افراد کو ملتا ہے نہ صرف جسمانی بلکہ احساسی سطح پر بھی. ایک مزیدار اور پر احساس رشتہ بنانے کے لیے، شادی میں احساسی قربت اکثر بھول جائی جاتی ہے. لیکن اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ احساسی قربت کی تربیت حیاتی اہمیت رکھتی ہے. اسلامی تعلیمات کے روشن نور میں، محبت اور تعلق برقرار رکھنا اور بڑھانا نکتہ نظر ہوتا ہے.
ایک نکتہ جسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ احساسی قربت کو بڑھانے کا کام دونوں شوہر اور بیوی کو کرنا ہوتا ہے. اگر ہم دونوں طرف سے محبت، احساس اور توجہ کی رسوائی کریں گے تو ہم گہری اور مضبوط محبت کے رشتے کو بنا سکتے ہیں.
احساسی قربت کی تربیت میں ذاتی وقت اور توجہ دینا بہت اہم ہے. روزانہ چند منٹ کا وقت نکال کر اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ واقعی بات کریں، دل کی باتیں کریں اور ان کے احوال اور خوابوں کی بات کریں. اس سے ہمارے رشتے میں احساسی مواصلات مضبوط ہوتی ہے.
اسلامی نظام میں شوہر اور بیوی کے درمیان محبت کی افزائش کے لیے زکوۃ بھی ایک اہم ذریعہ ہے. زکوۃ دینے سے دلوں میں عطراقی اور محبت بڑھتی ہے جو احساسی قربت کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتی ہے.
احساسی قربت کو بڑھانے کے لیے احسان کرنا بھی اہم ہے. دوستی، خوبصورت تائی یا اچھے رویے کا اظہار کرنا بھی احسان کے طریقوں میں شامل ہوتا ہے. احسان کرنے سے نہ صرف دوسروں کی خوشی بڑھتی ہے بلکہ رشتے میں تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں.
اسلام میں محبت اور تعلق کو بڑھانے کا ایک اور اہم طریقہ نیکی اور صدقت ہے. اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور دوسروں کے حقوق کو ادا کرنا احسان کی روایت کو مزید مضبوط بناتا ہے.
احساسی قربت اور محبت کو بڑھانے کے علاوہ، اسلام میں ان کو دینی زمین میں بھی برقرار رکھنے کی تربیت دی گئی ہے. صلہ کرنا، رحم کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا بھی اسلامی روشنی میں احساسی قربت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، شادی میں احساسی قربت کو بڑھانا اور محبت اور تعلق کو قائم رکھنا ہماری جدوجہد میں برکت ڈالتا ہے. اسی طرح ہمیں اپنی شادی میں احسان کرنے کی محبت کے نیا طریقہ بھی سیکھنا چاہئے.